ہفتہ 10 اکتوبر 2026 - 11:27
عالمِ اسلام کو ’’امریکی، صہیونی اور یورپی‘‘ فتنے کے مقابلے میں واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کرنا چاہیے

حوزہ / لبنان کے مفتی جعفری شیخ احمد قبلان نے خطبۂ جمعہ میں کہا: مشرقِ وسطیٰ آج خطرناک ترین ’’امریکی، صہیونی اور یورپی‘‘ فتنے کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمِ اسلام کو اس سازش کے مقابلے میں واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے ممتاز مفتی جعفری حجۃ الاسلام شیخ احمد قبلان نے مسجد امام حسین (ع)، برج البراجنہ میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کو درپیش خطرات سے خبردار کیا۔

انہوں نے کہا: مشرقِ وسطیٰ آج خطرناک ترین ’’امریکی، صہیونی اور یورپی‘‘ فتنے کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمِ اسلام کو اس سازش کے مقابلے میں واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جسے واشنگٹن، تل ابیب اور بروکسل کے ساتھ پسِ پردہ ہم آہنگی کے ذریعے آگے بڑھا رہا ہے تاکہ اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جائے اور ایسی ہمہ گیر جنگ کی آگ بھڑکائی جائے جسے بجھانا کسی کے لیے ممکن نہ ہو اور جس کا انجام دائمی تباہی کی صورت میں نکلے۔

مفتی شیخ احمد قبلان نے سعودی عرب کی قیادت سے خطاب کرتے ہوئے کہا: حجاز، سرزمینِ حرمین شریفین، مہدِ نبوت اور عبادت گاہوں کا مرکز ہے۔ یہ منفرد خصوصیات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ سعودی عرب قرآنی روابط کے حقیقی سرپرست کا کردار ادا کرے اور بڑے بھائی کی حیثیت سے ہر فتنے کی روک تھام اور عالمی یا علاقائی سطح پر کسی بھی ظالمانہ تسلط کو قابو میں رکھنے کی ذمہ داری نبھائے۔

انہوں نے مزید کہا: سعودی عرب سے ہمارا یہی مطالبہ ہے اور قرآنی منطق کی بنیاد پر یہ ایک اہم اور ناگزیر ضرورت ہے۔ ایران، ترکیہ، پاکستان، مصر، عراق، یمن، شام اور لبنان کو متحد ہو کر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی، صہیونی تسلط کے مقابلے کے لیے ایک مضبوط اور متحدہ اتحاد تشکیل دینا چاہیے۔ اس اتحاد کی بنیادی اساس ’’عربوں اور مسلمانوں کے مفادات‘‘ ہونے چاہئیں۔

شیخ احمد قبلان نے کہا: اگر اسلامی ممالک کے درمیان یہ شراکت داری قائم نہ ہوئی تو اس کا متبادل تباہی، دشمنی، جنگ اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا، جو صرف کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری عرب اور اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

انہوں نے مزید کہا: واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کرکے اسے فوجی اڈوں کے ایک وسیع نیٹ ورک میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ خطے کے توانائی کے ذخائر، معیشت اور مالی وسائل کو لوٹا جا سکے اور اسلامی ممالک کو اتحاد قائم کرنے اور عالمی نظام میں قائدانہ کردار ادا کرنے سے روکا جا سکے۔

لبنان کے مفتی جعفری نے کہا: لبنانی مقاومت صرف اس مقصد کے لیے عربوں اور مسلمانوں کے اتحاد کی خواہاں ہے کہ خطے کو امریکی، صہیونی منصوبوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ ایک اہم حقیقت ہے جسے تمام عرب اور اسلامی ممالک پر واضح ہونا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha